فهرس الكتاب

الصفحة 5250 من 5274

کتاب: السلام علیکم کہنے کے آداب

باب: سانپوں کو مارنے کا بیان

5250 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ يَرْفَعُ الْحَدِيثَ فِيمَا أَرَى إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَرَكَ الْحَيَّاتِ مَخَافَةَ طَلَبِهِنَّ فَلَيْسَ مِنَّا مَا سَالَمْنَاهُنَّ مُنْذُ حَارَبْنَاهُنَّ

سیدنا ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جس نے سانپوں کو ان کے بدلے کے ڈر سے چھوڑ دیا ، وہ ہم سے نہیں ۔ جب سے ہماری ان سے لڑائی شروع ہوئی ہے ہم نے ان سے صلح نہیں کی ۔ "

1۔مذکورہ بالا دونوں روایتیں سندا ضعیف ہیں ،تاہم معناصحیح ہیں جیساکہ تحقیق وتخریج میں وضاحت موجود ہے ۔

2:صاحب ایمان کو جرات مند اور بہادر ہونا چاہیے اوراپنے دشمن سے خواہ وہ انسانی ہو یاحیوانی کسی طرح خوف زدہ نہیں رہنا چاہیے ۔ بلکہ اللہ تعالی پر توکل کرنا چاہیے ۔

3:اسی طرح ا ن کے بدلے سے بھی نہیں ڈرنا چاہیے ۔

4:انسان اور سانپ کی دشمنی فطری اور جبلی ہے ۔

5:سانپ سے ڈرنے والا اعلی درجے کے ایمان سے کم تر رہنا ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت