فهرس الكتاب

الصفحة 5252 من 5274

کتاب: السلام علیکم کہنے کے آداب

باب: سانپوں کو مارنے کا بیان

5252 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ وَيُسْقِطَانِ الْحَبَلَ قَالَ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْتُلُ كُلَّ حَيَّةٍ وَجَدَهَا فَأَبْصَرَهُ أَبُو لُبَابَةَ أَوْ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ يُطَارِدُ حَيَّةً فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ نُهِيَ عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ

جناب سالم اپنے والد ( سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " سب قسم کے سانپوں کو مار ڈالا کرو ۔ وہ بھی جس کی پشت پر سیاہ ( یا سفید ) رنگ کی دو لکیریں ہوتی ہیں اور جس کی دم نہیں ہوتی ۔ بلاشبہ یہ نظر زائل کر دیتے ہیں ( جس کے ساتھ ان کی نظر مل جائے ) اور یہ حمل گرانے کا باعث بھی بنتے ہیں ۔ " چنانچہ سیدنا عبداللہ ؓ جس سانپ کو بھی پاتے ، اسے قتل کر ڈالتے تھے ۔ چنانچہ سیدنا ابولبابہ یا زید بن خطاب ؓ نے ان کو دیکھا کہ وہ سانپ کو ڈھونڈ رہے تھے ، تو انہوں نے بیان کیا کہ یہ جو گھروں میں رہنے والے سانپ ہیں ان کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت