541 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: قَالَ أَبُو عَمْرٍو ح، وحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ وَهَذَا لَفْظُهُ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ تُقَامُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَأْخُذُ النَّاسُ مَقَامَهُمْ قَبْلَ أَنْ يَأْخُذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے نماز کی اقامت کہی جاتی اور لوگ نبی کریم ﷺ کے مصلے پر تشریف لانے سے پہلے ہی اپنی جگہیں لے چکے ہوتے تھے ۔ ( یعنی صفیں برابر کر چکے ہوتے تھے ) ۔
قاضی عیاض کا بیان ہے کہ ایسا شائد ایک دو بار ہی ہوا ہے۔ غرض اس سے بیان جواز تھا۔یا کوئی اورعذر۔اور غالبا ًپہلے ایسے ہی ہوتا ہوگا۔اور بعد میں کسی وقت آپ کے آنے میں دیر ہوگئی۔ تو آپ نے فرمایا ہوگا۔ جب تک مجھے دیکھ نہ لو کھڑے نہ ہواکرو عون المعبود)