588 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ح، وحَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْأَوَّلُونَ نَزَلُوا الْعُصْبَةَ قَبْلَ مَقْدَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ يَؤُمُّهُمْ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَكَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا.
زَادَ الْهَيْثَمُ وَفِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الْأَسَدِ.
جناب نافع ، سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے راوی ہیں کہ جب مہاجرین اولین رسول اللہ ﷺ سے پہلے ہجرت کر کے آئے تو انہوں نہ مقام عصبہ پر ( قباء کے قریب ) پڑاؤ کیا تو سالم مولیٰ ابی حذیفہ ؓ ان کی امامت کرایا کرتے تھے ۔ ان لوگوں میں انہیں ہی قرآن سب سے زیادہ یاد تھا ۔ ہیثم نے اضافہ کیا کہ اس جماعت میں سیدنا عمر بن خطاب اور ابوسلمہ بن عبدالاسد ؓم بھی ہوتے تھے ۔
یہ حفظ قرآن کی برکت تھی۔ کہ قریش کے اشراف کے مقابلے میں ایک نو عمرغلام ان کا امام تھا۔