فهرس الكتاب

الصفحة 600 من 5274

کتاب: نماز کے احکام ومسائل

باب: جو کوئی کسی قوم کو نماز پڑھائے حالانکہ کہ خود ہی نماز پڑھ چکا ہو

600 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: إِنَّ مُعَاذًا كَانَ: >يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَؤُمُّ قَوْمَهُ.

سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ ؓ نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے اور پھر واپس جا کر اپنی قوم کو امامت کراتے ۔

1۔جب کوئی معقول سبب موجود ہو تو نماز کو دہرایا جاسکتا ہے مگر دوسری نفل ہوگی۔جیسے کہ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پہلی نماز فرض اور دوسری نفل ہوتی تھی۔اور ایک بار حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی ایک پیچھے رہ جانے والے کے ساتھ مل کر نماز پڑھی تھی۔ (دیکھئے سنن ابی دائود۔حدیث 574) 2۔امام نفل پڑھ رہا ہو تو مقتدی فرض کی نیت کرسکتاہے۔یہ صورت بالعموم ر مضان میں نماز تراویح میں پیش آسکتی ہے۔اور جائز ہے کہ دیر سے آنے والا امام کے پیچھے فرض کی نیت کرلے۔امام دو رکعت پرسلام پھیر دے۔تو وہ کھڑے ہوکر اپنی بقیہ نماز پوری کرلے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت