فهرس الكتاب

الصفحة 603 من 5274

کتاب: نماز کے احکام ومسائل

باب: امام اگر بیٹھ کر نماز پڑھائے

603 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى، عَنْ وُهَيْبٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ, فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَلَا تُكَبِّرُوا حَتَّى يُكَبِّرَ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَلَا تَرْكَعُوا حَتَّى يَرْكَعَ، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ, فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ -قَالَ مُسْلِمٌ: وَلَكَ الْحَمْدُ-، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَلَا تَسْجُدُوا حَتَّى يَسْجُدَ، وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا، فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا، فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَاللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ< أَفْهَمَنِي بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنْ سُلَيْمَانَ.

جناب ابوصالح ، سیدنا ابوہریرہ ؓ سے راوی ہیں ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " امام اس لیے ہوتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے ۔ وہ جب تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو ۔ اور جب تک وہ تکبیر نہ کہہ لے تم تکبیر نہ کہو ۔ اور جب وہ رکوع میں جائے تو تم بھی رکوع میں جاؤ ۔ اور اس وقت تک رکوع میں نہ جاؤ جب تک کہ وہ رکوع کے لیے جھک نہ جائے اور جب وہ «سمع الله لمن حمده» کہے ، تو تم کہو «اللهم ربنا لك الحمد» مسلم ( مسلم بن ابراہیم ) کے لفظ ہیں: «ولك الحمد» وہ جب سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور وقت تک سجدے کے لیے نہ جھکو جب تک وہ سجدے میں چلا نہ جائے ، اور جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو اور جب بیٹھ کر پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو ۔ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں «اللهم ربنا لك الحمد» کے الفاظ ہمارے بعض ساتھیوں نے ( استاد ) سلیمان بن حرب سے مجھے سمجھائے ۔

1۔ابتدائے اسلام میں حکم ایسے ہی تھا کہ امام اور مقتدی دونوں ایک ہی حالت میں ہوں۔لیکن اب یہ حکم نہیں ہے۔بلکہ امام کسی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھائے۔تو مقتدی کھڑے ہوکر نماز پڑھیں گے۔کیونکہ نبی کریم ﷺ کا آخری عمل یہی تھا۔2۔مقتدی کے لئے واجب ہے۔کہ انتقال ارکان میں امام سے پیچھے رہے اس سے سبقت (پہل ) نہ کرے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت