606 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ابْنُ سَعِيدٍ وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الْمَعْنَى أَنَّ اللَّيْثَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: اشْتَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَأَبُو بَكْرٍ يُكَبِّرُ، لِيُسْمِعَ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ.... ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ.
سیدنا جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ بیمار ہو گئے تو ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی جبکہ آپ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے اور سیدنا ابوبکر ؓ تکبیر کہتے تھے تاکہ لوگوں کو آپ ﷺ کی تکبیر سنوائیں ۔ پھر حدیث بیان کی ۔
امام بیمار ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھا سکتا ہے۔لیکن مقتدی کھڑ ہوکر ہی پڑھیں گے۔2۔امام کی تکبیر کی آواز لوگوں تک پہنچانے کےلئے مکبر اس کی مدد کرسکتے ہیں۔اور آج کل آلہ مکبر الصوت (لائوڈ سپیکر) یہ ضروریات پوری کر دیتے ہیں۔