611 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ, فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: فَأَخَذَ بِرَأْسِي، أَوْ بِذُؤَابَتِي، فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ.
جناب سعید بن جبیر ، سیدنا ابن عباس ؓ سے اس قصے میں بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے مجھے میرے سر سے پکڑا یا میرے بال پکڑے اور مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا ۔
1۔اس میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فضیلت کا اثبات ہے۔کہاانہیں اوائل عمر ہی میں نبی ﷺ کے معمولات کے مشاہدہ کا شوق تھا۔2۔ایک شخص جو اپنی نماز پڑھ رہا ہو۔اس کو اما م بنانا جائز ہے۔خواہ اس نے امام بننے کی نیت نہ کی ہو۔3۔بعض اوقات تہجد یا نفل نماز کی جماعت کرائی جاسکتی ہے۔4۔دوآدمیوں کی جماعت بھی درست ہے۔ اور ا س صورت میں وہ دونوں ایک صف میں برابر کھڑے ہوں گے۔5۔اثنائے نماز میں کوئی ضروری اصلاح ممکن ہو تو کردینے اور قبول کرلینے میں کوئی حرج نہیں۔