613 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ اسْتَأْذَنَ عَلْقَمَةُ وَالْأَسْوَدُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ وَقَدْ كُنَّا أَطَلْنَا الْقُعُودَ عَلَى بَابِهِ فَخَرَجَتْ الْجَارِيَةُ فَاسْتَأْذَنَتْ لَهُمَا فَأَذِنَ لَهُمَا ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بَيْنِي وَبَيْنَهُ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ
جناب عبدالرحمٰن بن اسود اپنے والد سے راوی ہیں ، انہوں نے کہا کہ جناب علقمہ اور اسود نے سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ سے ( ان کے گھر میں ملنے کی ) اجازت چاہی ۔ اور ہمیں ان کے دروازے پر کافی دیر بیٹھنا پڑا تھا ۔ بالآخر ایک لونڈی آئی جس نے ہمارے لیے اجازت طلب کی تو آپ نے ہمیں بلوا لیا ۔ پھر آپ نماز کے لیے اٹھے تو میرے اور ان کے درمیان کھڑے ہوئے ( اور ہمیں نماز پڑھائی ) پھر کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے ہی دیکھا تھا ۔
حافظ ابن حجر فتح الباری میں بیان کرتے ہیں کہ ابن سیرین نےاس کاجواب یہ دیا ہے کہ شاید جگہ کی تنگی کی وجہ سے ایسے کیاہو۔ ابو عمر النمری نےاسے حضرت عبداللہ بن مسعود پرموقوف کہا ہے اور کچھ نےاسے منسوخ کہا ہے اور حضرت عبداللہ بن مسعود کےعمل کوان کی عدم اطلاع یانسیان پرمحمول کیا ہے۔