فهرس الكتاب

الصفحة 655 من 5274

کتاب: نماز کے احکام ومسائل

باب: نمازی اپنے جوتے اتارے'تو کہاں رکھے؟

655 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ وَشُعَيْبُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَلَا يُؤْذِ بِهِمَا أَحَدًا لِيَجْعَلْهُمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَوْ لِيُصَلِّ فِيهِمَا

سیدنا ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا " جب کوئی نماز پڑھنے لگے اور اپنے جوتے اتارے تو ان سے کسی دوسرے کو ایذا نہ دے ۔ ( یعنی اس کے آگے یا دائیں طرف نہ رکھے یا کسی اور طرح سے بھی اذیت کا باعث نہ بنے ۔ ) چاہیئے کہ انہیں اپنے قدموں کے درمیان میں رکھے یا پہنے ہوئے ہی نماز پڑھ لے ۔ "

(1) جوتے اتار کریا پہن کرنماز پڑھنا دونوں ہی طرح جائز ہے،البتہ کبھی کبھی یہودیوں کی مخالفت کےاظہار کےلیے پہن کرنماز پڑھنا ،احیائے سنت کی نیت سےباعث اجر وفضیلت ہےمگر خیال رہے کہ یہ کام بے علم عوام میں فتنے کا باعث نہ بنے ۔

(2) کسی بھی مسلمان کوکسی طرح سےاذیت دینا حرام ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت