باب: صفیں سیدھی کرنے کا مسئلہ
670 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَنَسٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ أَخَذَهُ بِيَمِينِهِ ثُمَّ الْتَفَتَ فَقَالَ اعْتَدِلُوا سَوُّوا صُفُوفَكُمْ ثُمَّ أَخَذَهُ بِيَسَارِهِ فَقَالَ اعْتَدِلُوا سَوُّوا صُفُوفَكُمْ
جناب محمد بن مسلم نے سیدنا انس ؓ سے مذکورہ حدیث بیان کی اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اس لکڑی کو دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے پھر ( دائیں صف کی طرف ) متوجہ ہو کر کہتے " سیدھے کھڑے ہو جاؤ ، اپنی صفوں کو برابر کر لو ۔ " پھر اپنے بائیں ہاتھ سے پکڑتے ( اور بائیں جانب متوجہ ہوتے ) اور فرماتے " سیدھے کھڑے ہو جاؤ اور اپنی صفوں کو برابر کر لو ۔ "
حدیث 669 اور 670 دونوں ضعیف ہیں۔اس لیے اس میں صفوں کی درستی کی تاکیدوالی بات توصحیح ہے، کیونکہ اس کا ذکر صحیح احادیث میں بھی ہے۔لیکن اس کام کےلیے لکڑی کےاستعمال والی بات صحیح نہیں ہے۔