714 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ح قَالَ أَبُو دَاوُد و حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ وَهَذَا لَفْظُهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كُنْتُ أَنَامُ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ فِي قِبْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُصَلِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَمَامَهُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ زَادَ عُثْمَانُ غَمَزَنِي ثُمَّ اتَّفَقَا فَقَالَ تَنَحَّيْ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا نے بیان کیا کہ میں سوتی اور رسول اللہ ﷺ کے قبلہ رخ عرض میں لیٹی ہوئی ہوتی تھی اور رسول اللہ ﷺ نماز پڑھتے رہتے اور میں آپ ﷺ کے سامنے ہوتی ۔ جب آپ ﷺ وتر پڑھنا چاہتے ۔ عثمان نے اضافہ کیا ، آپ ﷺ مجھے دبا دیتے ، پھر ( قعنبی اور عثمان ) دونوں روایت میں متفق ہیں کہ آپ ﷺ فرماتے " ( عائشہ ! ) ایک طرف ہو جاؤ ۔ "
ان روایات سےمعلوم ہواکہ نمازی کےآگے کسی کا لیٹا ہوا ہونا ارواس کےآگے سے گزرنا ، یہ دوالگ الگ باتیں ہیں، آگے لیٹا ہوا ہونا نماز میں قادح (خراب کرنے والا عمل ) نہیں ۔البتہ گزرنا خشوع کےمنافی ہے، اسی لیے یہ ممنوع ہےاو رآگے گزرنے والا سخت گناہ گار ۔