فهرس الكتاب

الصفحة 720 من 5274

کتاب: ان چیزوں کی تفصیل جن سے نماز ٹوٹ جاتی ہے اور جن سے نماز نہیں ٹوٹتی

باب: ان حضرات کی دلیل جو کہتے ہیں کہ نمازکو کوئی چیز نہیں توڑتی

720 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَدَّاكِ قَالَ مَرَّ شَابٌّ مِنْ قُرَيْشٍ بَيْنَ يَدَيْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَهُوَ يُصَلِّي فَدَفَعَهُ ثُمَّ عَادَ فَدَفَعَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ إِنَّ الصَّلَاةَ لَا يَقْطَعُهَا شَيْءٌ وَلَكِنْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْرَءُوا مَا اسْتَطَعْتُمْ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ قَالَ أَبُو دَاوُد إِذَا تَنَازَعَ الْخَبَرَانِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُظِرَ إِلَى مَا عَمِلَ بِهِ أَصْحَابُهُ مِنْ بَعْدِهِ

جناب ابوالوداک بیان کرتے ہیں کہ قریش کا ایک نوجوان سیدنا ابوسعید ؓ کے آگے سے گزرنے لگا ، جب کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے ، تو انہوں نے اس کو روکا ۔ وہ پھر آیا ، تو انہوں نے اسے روکا ۔ تین دفعہ ایسا ہی ہوا ۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے ، تو فرمایا: نماز کو کوئی شے نہیں توڑتی مگر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے " ( گزرنے والے کو ) جہاں تک ہو سکے روکو ، بلاشبہ وہ شیطان ہے ۔ " امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ سے دو حدیثیں ایک دوسرے کے خلاف منقول ہوں تو دیکھا جاتا ہے کہ آپ ﷺ کے اصحاب کرام ؓم نے آپ ﷺ کے بعد کیا عمل اختیار کیا تھا ۔

شیخ البانی � کےنزدیک یہ دونوں حدیثیں ضعیف ہیں۔تاہم جن کےنزدیک صحیح ہیں۔ان کے نزدیک تو ا س عموم سے وہ تین چیزیں خارج ہوں گی جن کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے، اوروہ ہیں عورت ، گدھا اورکالا کتا ۔ (دیکھیے ، حدیث:702 او راس کا فائدہ ) یعنی اس حدیث کی وجہ سے ، حدیث: 719 او ر720 کے عموم سےمذکورہ تینوں چیزیں مستثنی ہوں گی یعنی ان کے گزرنے سےنماز ٹوٹ جائے گی اوراس کااعادہ ضروری ہوگا۔البتہ ان کے علاوہ کسی کےگزرنے سےنماز نہیں ٹوٹے گی۔ واللہ اعلم .

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت