731 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْعَامِرِيِّ، قَالَ: كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَذَاكَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: فَذَكَرَ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَقَالَ: «فَإِذَا رَكَعَ أَمْكَنَ كَفَّيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ثُمَّ هَصَرَ ظَهْرَهُ غَيْرَ مُقْنِعٍ رَأْسَهُ، وَلَا صَافِحٍ بِخَدِّهِ» ، وَقَالَ: «فَإِذَا قَعَدَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَعَدَ عَلَى بَطْنِ قَدَمِهِ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْيُمْنَى، فَإِذَا كَانَ فِي الرَّابِعَةِ أَفْضَى بِوَرِكِهِ الْيُسْرَى إِلَى الْأَرْضِ وَأَخْرَجَ قَدَمَيْهِ مِنْ نَاحِيَةٍ وَاحِدَةٍ» ،
جناب محمد بن عمرو عامری بیان کرتے ہیں کہ میں اصحاب رسول اللہ ﷺ کی ایک مجلس میں تھا ، تو وہاں رسول اللہ ﷺ کی نماز کا ذکر شروع ہو گیا ۔ سیدنا ابوحمید ؓ نے کہا ، اور مذکورہ حدیث کا کچھ حصہ بیان کیا ۔ اس میں کہا: آپ ﷺ جب رکوع کرتے تو اپنی ہتھیلیوں سے اپنے گھٹنوں کو پکڑ لیتے اور اپنی انگلیوں کو کھول لیتے اور اپنی کمر کو دہرا کرتے ۔ سر نہ تو اٹھایا ہوتا اور نہ اپنے رخسار کو ادھر ادھر موڑا ہوتا ( بلکہ سیدھا قبلہ رخ ہوتا ) ۔ مزید کہا ، اور جب دو رکعتوں کے بعد بیٹھتے تو اپنے بائیں پاؤں کے تلوے پر بیٹھتے اور دائیں کو کھڑا کر لیتے ۔ اور جب چوتھی رکعت میں بیٹھتے تو اپنی بائیں ران کو زمین پر ٹکا دیتے اور اپنے دونوں پاؤں کو ایک جانب میں نکال لیتے ۔
(1) شیخ البانی � نےلکھا ہےکہ جملہ [ ولا صافع بخدّہ ] رخسارے کو ادھرادھر نہ موڑ ہوتا ۔،، ضعیف ہے۔
(2) رکوع میں گھٹنے پر ہاتھ رکھنا کافی نہیں بلکہ انگلیاں پھیلاکرگھٹنے کو پکڑنا مسنون ہے۔