فهرس الكتاب

الصفحة 776 من 5274

کتاب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل

باب: افتتاح نماز میں «سبحانك اللهم وبحمدك» والی دعا پڑھنا

776 حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ الْمُلَائِيُّ عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرَكَ قَالَ أَبُو دَاوُد وَهَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِالْمَشْهُورِ عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ لَمْ يَرْوِهِ إِلَّا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ وَقَدْ رَوَى قِصَّةَ الصَّلَاةِ عَنْ بُدَيْلٍ جَمَاعَةٌ لَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ شَيْئًا مِنْ هَذَا

ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا بیان فرماتی ہیں کہرسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے تو یہ دعا پڑھتے: «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» ۔ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث عبدالسلام بن حرب سے مشہور نہیں ہے ۔ اسے صرف طلق بن غنام نے روایت کیا ہے ۔ بدیل سے ایک جماعت نے نماز کہ تفصیل روایت کی ہے مگر ان میں سے کسی نے بھی اسے ذکر نہیں کیا ۔

علامہ شوکانی فرماتے ہیں۔کہ نبی کریمﷺ سے صحیح اسانید سے ثابت اذکار کا اختیار کرنا ہی اولیٰ اور افضل ہے۔افتتاح نماز کی دعائوں میں سب سے صحیح ترین حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ہے۔ (یعنی اللهم باعد بيني وبين ۔۔۔) (صحیح بخاری حدیث 744۔وصحیح مسلم حدیث 598) اس کے بعد حدیث علی یعنی (وجهت وجهي للذي فطر السموات۔۔۔الخ اور حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا اورابوسعید یعنی(سبحانك اللهم۔۔۔الخ) میں کلام ہے۔ (نیل الاوطار 215/2۔تا 219) لیکن امام شوکانی نے اگلے باب میں اس حدیث کو بھی شواہد کی وجہ سے قابل عمل قرار دیا ہے۔شیخ البانی نے اس حدیث کو صحیح قراردیا ہے۔علاوہ ازیں ہمارے محقق (شیخ زبیر علی زئی) نے بھی اسے صحیح کہا ہے۔اس لئے اس دعائے استفتاح کا پڑھنا بھی صحیح ہے۔ گودرجات حدیث میں اس کا نمبرتیسرا ہے۔ لیکن یہ بھی صحیح ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت