784 حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آنِفًا سُورَةٌ فَقَرَأَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ حَتَّى خَتَمَهَا قَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّهُ نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي فِي الْجَنَّةِ
سیدنا انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہرسول اللہ ﷺ نے فرمایا " مجھ پر ابھی ابھی ایک سورت نازل ہوئی ہے ۔ " آپ نے « بسم الله الرحمن الرحيم * إنا أعطيناك الكوثر » پوری سورت پڑھ کر سنائی ۔ آپ ﷺ نے پوچھا " جانتے ہو کوثر کیا ہے ؟ " صحابہ ؓم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " یہ ایک نہر ہے جس کا میرے رب عزوجل نے مجھ سے جنت میں وعدہ فرمایا ہے ۔"
مذکورۃ الصدر دونوں احادیث صحیح اور حسن ہیں۔لہذا ترجیح صحیح احادیث کو ہے۔ نیز اگلے باب کی حدیث کے ( بسم اللہ ) سے دو صورتوں کے مابین فرق وفصل نمایاں ہوتاتھا۔اس سے یہی جانب راحج معلوم ہوتی ہے۔ کہ ( بسم اللہ) سورت کا جز نہیں۔ (تفصیل کےلئے دیکھئے نیل الاوطار)