فهرس الكتاب

الصفحة 80 من 5274

کتاب: طہارت کے مسائل

باب: عورت کے(استعمال سے)بچے ہوئے پانی سے وضو کرنا

80 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ كُنَّا نَتَوَضَّأُ نَحْنُ وَالنِّسَاءُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ نُدْلِي فِيهِ أَيْدِيَنَا

سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہم ( مرد ) اور عورتیں ایک ہی برتن سے وضو کر لیا کرتے تھے اور اسی ( ایک ہی برتن ) میں اپنے ہاتھ ڈالتے تھے ۔

فوائد ومسائل: (1) یہ صورت حجاب سے پہلے کی رہی ہو گی اور حجاب کے بعد یہ معاملہ شوہروں اور ان کی بیویوں کے مابین یا محارم کے مابین محدود ہو گیا۔ اور مسئلہ یہ ثابت ہوا کہ عورت کا مستعمل (بچا ہوا) پانی، خواہ عورت محرم ہو یا غیر محرم، پاک ہے اس سے وضو اور غسل جائز ہے۔ (2) جب غیر محرم مرد کا مستعمل ( بچا ہوا) پانی عورت استعمال کرسکتی ہے تو اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ غیر محرم مرد کا بچا ہو اکھانا بھی عورت کھا سکتی ہے۔ شریعت میں اس سے ممانعت کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ والله أعلم

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت