807 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَهُشَيْمٌ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ فَرَأَيْنَا أَنَّهُ قَرَأَ تَنْزِيلَ السَّجْدَةِ قَالَ ابْنُ عِيسَى لَمْ يَذْكُرْ أُمَيَّةَ أَحَدٌ إِلَّا مُعْتَمِرٌ
سیدنا ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نماز ظہر میں سجدہ ( تلاوت ) کیا ، پھر کھڑے ہو گئے پھر رکوع کیا ، تو ہمیں معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے الم تنزیل السجدہ تلاوت کی تھی- ابن عیسیٰ کہتے ہیں امیہ کا ذکر صرف معتمر ہی نے کیا ہے ۔
حدیث ضعیف ہے۔اس لئے یہ واقعہ تو صحیح نہیں۔تاہم یہ واضح ہے کہ اگر نماز میں سجدہ تلاوت والی آیات پڑھی جائے۔تو سجدہ تلاوت کرنا بہتر ہوگا۔