فهرس الكتاب

الصفحة 809 من 5274

کتاب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل

باب: نماز ظہر اور عصر میں قرآت کی مقدار

809 حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَا أَدْرِي أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ أَمْ لَا

سیدنا ابن عباس نے کہامجھے نہیں معلوم کہ آیا رسول اللہ ﷺ ظہر اور عصر میں قرآت کرتے تھے یا نہیں ۔

ظہراور عصر میں قراءت کے مسئلہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایات مختلف ہیں۔کسی میں انکار ہے اور کسی میں تردد اور جبکہ کچھ میں اثبات بھی مروی ہے۔شاید انھیں پہلے علم نہ تھا۔پھر بعد میں دیگر صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین سے علم ہوا بہرحال صحیح روایت میں ثابت ہے۔ کہ نبی ﷺ ظہر اور عصر میں قراءت فرمایا کرتے تھے۔دیکھئے۔ (صحیح بخاری۔حدیث 746) 2۔اہل بیت کو کسی خاص حکم اور وصیت سے مخصوص نہیں کیا گیا۔مذکورہ مسائل محض تاکید مزید کے معنی میں ہیں۔صرف صدقہ کے نہ کھانے میں انہیں انفرادیت ہے۔3۔گدھے اور گھوڑی کی جفتی ہمیں خود کرانا ممنوع ہے۔ان میں یہ عمل از خود ہوجائے یا کوئی جاہل لوگ کریں تو ہمیں ان سے پیدا ہونے والے خچر سے فائدہ اٹھانا بالکل جائز ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت