825 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ عَنْ ابْنِ جَابِرٍ وَسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلَاءِ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ عُبَادَةَ نَحْوَ حَدِيثِ الرَّبِيعِ بْنِ سُلَيْمَانَ قَالُوا فَكَانَ مَكْحُولٌ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ سِرًّا قَالَ مَكْحُولٌ اقْرَأْ بِهَا فِيمَا جَهَرَ بِهِ الْإِمَامُ إِذَا قَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسَكَتَ سِرًّا فَإِنْ لَمْ يَسْكُتْ اقْرَأْ بِهَا قَبْلَهُ وَمَعَهُ وَبَعْدَهُ لَا تَتْرُكْهَا عَلَى كُلِّ حَالٍ
مکحول نے سیدنا عبادہ ؓ سے ربیع بن سلیمان کی ( مذکورہ بالا ) روایت کی مانند بیان کیا ( مکحول کے تلامذہ نے ) بیان کیا کہ جناب مکحول مغرب ، عشاء اور فجر کی نمازوں میں ہر رکعت میں سری طور پر سورۃ فاتحہ پڑھا کرتے تھے ۔ مکحول نے کہا: جب امام جہری قرآت کر رہا ہو اور سکتے کرے تو ( اس اثناء میں ) خاموشی سے فاتحہ پڑھ لو اگر سکتے نہ کرے تو اس سے پہلے پڑھ لو یا اس کے ساتھ ساتھ پڑھتے جاؤ یا اس کے بعد پڑھ لو ۔ کسی حال میں چھوڑو نہیں ۔
مکحول نے حضرت عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نہیں پایا اس لئے روایت منقطع ہے۔ (منذری) اور تابعی کا عمل واضح ہے۔کہ وہ بہر صورت امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھتے اور اس کی تاکید کرتے تھے۔