837 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَابْنُ الْمُثَنَّى قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عِمْرَانَ قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ الشَّامِيِّ و قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْعَسْقَلَانِيُّ عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ لَا يُتِمُّ التَّكْبِيرَ قَالَ أَبُو دَاوُد مَعْنَاهُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ وَأَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ لَمْ يُكَبِّرْ وَإِذَا قَامَ مِنْ السُّجُودِ لَمْ يُكَبِّرْ
جناب ابن عبدالرحمٰن بن ابزی اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہانہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ سب تکبیریں نہ کہتے تھے ۔ امام ابوداؤد ؓ نے کہا کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ رکوع سے سر اٹھا کر سجدے کو جاتے ہوئے اور سجدوں سے قیام کرتے تکبیر نہیں کہی ۔
ابو دائود طیالسی سے مروی ہے کہ یہ ہمارے نزدیک باطل ہے۔ (منذری) تکبیرات انتقال رسول اللہ ﷺ کا متواتر عمل ہے۔