849 حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَامِرٍ قَالَ لَا يَقُولُ الْقَوْمُ خَلْفَ الْإِمَامِ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَلَكِنْ يَقُولُونَ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ
جناب عامر بن شراحیل شعبی ( تابعی ) کہتے ہیں کہ لوگوں کو امام کے پیچھے «سمع الله لمن حمده » نہیں کہنا چاہیے ۔ وہ ربنا لك الحمد> کہیں ۔
دعائوں میں منفرد امام اور مقتدی سب ہی شریک ہوں۔احادیث کے عموم کا یہی تقاضا ہے۔امام شافعی مالک عطا ابو دائود۔ابو بردہ۔محمد بن سیرین۔اسحاق او ردائود۔کا میلان اسی طرف ہے۔تفصیل کیے لئے دیکھئے۔ (نیل الاوطار باب مایقول فی رفعہ من الرکوع ،بعد النتصابہ 279/2) جب کہ کچھ دوسری طرف بھی گئے ہیں۔جیسے کہ امام شعبی کا یہ قول بیان ہوا ہے۔پہلی صورت میں ان شاء اللہ راحج ہے۔ 2۔چاہیے کہ نوخیز بچوں اور طلبہ علم کو ان دعائوں کے پڑھنے کا عادی بنایا جائے۔