862 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْحَكَمِ ح، وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ مَحْمُودٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ، قَال: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَقْرَةِ الْغُرَابِ، وَافْتِرَاشِ السَّبْعِ، وَأَنْ يُوَطِّنَ الرَّجُلُ الْمَكَانَ فِي الْمَسْجِدِ كَمَا يُوَطِّنُ الْبَعِيرُ. هَذَا لَفْظُ قُتَيْبَةَ
سیدنا عبدالرحمٰن بن شبل کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ ( نماز میں ) کوے کی طرح ٹھونگیں ماری جائیں یا درندے کی مانند پھیل کر بیٹھا جائے یا کوئی شخص مسجد میں ( اپنے لیے ) جگہ خاص کر لے جیسے کہ اونٹ خاص کر لیتا ہے ۔ اور یہ لفظ قتیبہ کے ہیں
نماز میں حیوانات سے مشابہت کی ممانعت آئی ہے'جیسے کہ اونٹ کی طرح بیٹھنا-اور اس حدیث میں جلدی جلدی نماز پڑھنے کوکوے کی طرح ٹھونگیں مارنے سے دی گئی ہے-یا سجدہ میں انسان اپںی کہنیاں زمین پر بچھالے تو درندے کی طرح پھیل کر بیٹھنے سے آئی ہے-ایسے ہی مسجد میں نماز کے لیے اپنے لیے جگہ مخصوص کرنا بھی ممنوع ہے-نماز کے بعد علمی حلقے کے لیے جگہ خاص کرنے میں کوئی حرج نہیں-