879 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَلَمَسْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ وَقَدَمَاهُ مَنْصُوبَتَانِ وَهُوَ يَقُولُ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا بیان کرتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ ﷺ کو ( ان کے بستر سے ) گم پایا تو میں نے انہیں ان کے مصلے پر ٹٹولا تو پایا کہ آپ ﷺ سجدے میں تھے ۔ آپ ﷺ کے پاؤں کھڑے تھے اور آپ ﷺ یہ کلمات پڑھ رہے تھے «أعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت ك أثنيت على نفسك» " ( اے اللہ ! ) میں تیری ناراضی سے ، تیری رضا مندی کی اور تیری پکڑ سے تیری معافی کی پناہ چاہتا ہوں ۔ میں تجھ سے ( ڈر کر ) تیری ہی پناہ میں آتا ہوں ۔ میں تیری تعریفات شمار نہیں کر سکتا ۔ تو ویسا ہی ہے جیسے کہ تو نے خود اپنی ثنا بیان کی ہے ۔ "