فهرس الكتاب

الصفحة 888 من 5274

کتاب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل

باب: رکوع اور سجدے کی مقدار

888 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ وَابْنُ رَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ بْنِ كَيْسَانَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ وَهْبِ بْنِ مَانُوسَ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْفَتَى يَعْنِي عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ فَحَزَرْنَا فِي رُكُوعِهِ عَشْرَ تَسْبِيحَاتٍ وَفِي سُجُودِهِ عَشْرَ تَسْبِيحَاتٍ قَالَ أَبُو دَاوُد قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ قُلْتُ لَهُ مَانُوسُ أَوْ مَابُوسُ قَالَ أَمَّا عَبْدُ الرَّزَّاقِ فَيَقُولُ مَابُوسُ وَأَمَّا حِفْظِي فَمَانُوسُ وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ رَافِعٍ قَالَ أَحْمَدُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ

سیدنا انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے شیخ سے پوچھا کہ راوی کا نام مانوس ( نون کے ساتھ ) ہے یا مابوس ( باء کے ساتھ ) ؟ تو انہوں نے کہا کہ عبدالرزاق نے مابوس ( باء کے ساتھ ) بیان کیا ہے ، مگر مجھے مانوس ( نون کے ساتھ ) یاد ہے اور یہ ابن رافع کے لفظ ہیں ۔ احمد نے اپنی روایت میں عنعنہ کا استعمال کرتے ہوئے «عن سعيد بن جبير عن أنس بن مالك» کہا ۔ ( جبکہ ابن رافع نے سماع کی تصریح کی ہے ) ۔

شیخ شوکانی فرماتے ہیں کہ رکوع اور سجود میں زیادہ سے زیادہ عدد کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔نماز کی طوالت کے اعتبار سے زیادہ سے زیادہ بغیر کسی مدد معین کے تسبیحات کہی جاسکتی ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت