910 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ الْأَشْعَثِ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْتِفَاتِ الرَّجُلِ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ إِنَّمَا هُوَ اخْتِلَاسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنْ صَلَاةِ الْعَبْدِ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا سے روایت ہے ، وہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ آدمی کا نماز کے دوران میں ادھر ادھر دیکھنا کیسا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا " یہ اچکنا ہے ۔ اس طرح سے شیطان بندے کی نماز سے اچک لیتا ہے ۔ "
گردن گھماکر دیکھنا بالکل ناجائز ہے۔البتہ اشد ضرورت کے تحت کسی قدر نظر گھما کر دیکھے تو جائز ہے۔