فهرس الكتاب

الصفحة 922 من 5274

کتاب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل

باب: نماز میں عمل( حرکات وغیرہ جو مباح ہیں)

922 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَمُسَدَّدٌ وَهَذَا لَفْظُهُ، قَالَ:، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا بُرْدٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحْمَدُ -يُصَلِّي، وَالْبَابُ عَلَيْهِ مُغْلَقٌ، فَجِئْتُ فَاسْتَفْتَحْتُ،- قَالَ أَحْمَدُ فَمَشَى، فَفَتَحَ لِي، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مُصَلَّاهُ. وَذَكَرَ أَنَّ الْبَابَ كَانَ فِي الْقِبْلَةِ.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے ہوتے ، میں آتی اور دروازہ کھلواتی تو آپ ﷺ چل کر دروازہ کھول دیتے اور پھر اپنے مصلے پر لوٹ آتے ۔ اور ( عروہ نے ) ذکر کیا کہ دروازہ قبلہ رخ تھا ۔

یہ روایت سند ًا ضعیف ہے۔تاہم اگر دروازہ قبلہ رخ ہوا۔اور چند قدم کے فاصلے پر ہوا اور گھر میں کوئی جواب دینے والا بھی نہ ہو تو چند قدم چل کر دروازہ کھول دینے میں کوئی حرج معلوم نہیں ہوتا۔بلکہ ایک تو یہ عمل قلیل ہے۔ دوسرے نمازی قبلے سے منحرف بھی نہیں ہوتا۔ تیسرے اس سے اس کا خشوع فی الصلاۃ بھی زیادہ متاثر نہیں ہوگا۔واللہ اعلم

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت