937 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ بِلَالٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَا تَسْبِقْنِي بِآمِينَ!
سیدنا بلال ؓ سے مروی ہے انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! «آمين» کہنے میں مجھے سے جلدی نہ فرمائیے ۔
یعنی نماز شروع ہوچکی تھی۔وہ تاخیر سے آئے تو کہا مجھے موقع دیجئے کہ میں بھی نماز میں مل کر آپ کے ساتھ آمین کہہ سکوں۔اس کی سند مرسل ہے۔کہ ابو عثمان کی بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات میں کلام ہے۔جبکہ امام دارقطنی وغیرہ اسے موصول قرار دیتے ہیں۔ (عون المعبود) بہرحال اگر امام کو کہہ دیا جائے کہ زرا قراءت کو طویل کردیں۔اور وہ اسے قبول کرلے تو کوئی حرج نہیں صحیح بخاری میں ہے۔ (باب اذا قيل للمصلي تقدم اوانتظر فانتظر فلا باس ) (کتاب العمل فی الصلواۃ باب 14)