951 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الرَّجُلِ قَاعِدًا؟ فَقَالَ: >صَلَاتُهُ قَائِمًا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهِ قَاعِدًا، وَصَلَاتُهُ قَاعِدًا عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاتِهِ قَائِمًا، وَصَلَاتُهُ نَائِمًا عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاتِهِ قَاعِدًا
سیدنا عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا " کھڑے ہو کر نماز پڑھنا بیٹھ کر نماز پڑھنے کی نسبت افضل ہے ۔ اور بیٹھنے والے کی نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے کے مقابلے میں آدھی ہوتی ہے ۔ اور لیٹ کر پڑھنے والے کی نماز بیٹھ کر پڑھنے والے کی نسبت آدھی ہوتی ہے ۔ "
1۔اگر کوئی بیمار یا ضعیف کھڑا نہیں ہوسکتا۔تو و ہ بیٹھ کر پڑھنے سے ان شاء اللہ پورا اجر پائے گا۔2۔طاقت کے ہوتے ہوئے بغیر کسی عذرکے فرض نماز بیٹھ کریا لیٹ کر پڑھنا قطعًا ناجائز ہے۔ (عون المعبود) االبتہ نفلی نماز بغیر عذر کے بیٹھ کر پڑھنے سے آدھا اجر کم ہوجاتا ہے۔