953 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَت:ْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ جَالِسًا قَطُّ، حَتَّى دَخَلَ فِي السِّنِّ، فَكَانَ يَجْلِسُ فِيهَا فَيَقْرَأُ، حَتَّى إِذَا بَقِيَ أَرْبَعُونَ أَوْ ثَلَاثُونَ آيَةً, قَامَ فَقَرَأَهَا، ثُمَّ سَجَدَ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو بڑھاپا آنے سے پہلے میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا کہ رات کی نماز میں آپ ﷺ نے بیٹھ کر قرآت کی ہو ، مگر جب بوڑھے ہو گئے تو بیٹھ کر قرآت کیا کرتے تھے ، حتیٰ کہ جب تیس یا چالیس آیتیں باقی رہ جاتیں تو انہیں کھڑے ہو کر پڑھتے ، پھر سجدہ کرتے ۔
معلوم ہواکہ نوافل میں جائز ہے۔کہ انسان بیٹھ کرابتداء کرے اور اثنائے قراءت میں کھڑا ہوجائے یا کھڑے ہوکر ابتداء کرے اور درمیان میں بیٹھ جائے۔