فهرس الكتاب

الصفحة 1099 من 5274

کتاب: جمعۃ المبارک کے احکام ومسائل

باب: خطیب کا خطبے میں کمان سے سہارا لینا

1099 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّ خَطِيبًا خَطَبَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا! فَقَالَ: قُمْ -أَوِ اذْهَبْ-، بِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ!.

سیدنا عدی بن حاتم ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے ایک خطیب نے خطبہ دیا اور اس نے کہا «من يطع الله ورسوله فقد رشد ومن يعصهما» " جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی اور جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی ۔ " آپ ﷺ نے فرمایا: " کھڑے ہو جاؤ ۔ " یا فرمایا " چلے جاؤ تم بہت برے خطیب ہو ۔ "

نبی ﷺ نے یہ پسند نہیں فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول کو ایک ضمیر تثنیہ سے ذکر کیا جائےیہ خلاف ادب ہے۔اس میں مساوات کا شبہ ہوسکتا ہے۔اگر یہ مفہوم ادا کرنا ہو تو (من يعص الله ورسوله) کہا جائے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت