1100 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْنٍ، عَنْ بِنْتِ الْحَارِثِ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَت:ْ مَا حَفِظْتُ (قَافْ) إِلَّا مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَخْطُبُ بِهَا كُلَّ جُمُعَةٍ، قَالَتْ: وَكَانَ تَنُّورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَنُّورُنَا وَاحِدًا.
قَالَ أَبو دَاود: قَالَ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ شُعْبَةَ قَالَ بِنْتُ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ و قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ أُمُّ هِشَامٍ بِنْتُ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ.
حارث بن نعمان کی صاحبزادی بیان کرتی ہیں کہ میں نے سورۃ ق رسول اللہ ﷺ کے منہ مبارک سے سن کر ہی یاد کی ہے ۔ آپ ﷺ اسے ہر خطبہ جمعہ میں پڑھا کرتے تھے ۔ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا اور ہمارا تنور ایک ہی تھا ۔ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ روح بن عبادہ نے شعبہ سے روایت کرتے ہوئے اس خاتون کا نسب یوں ذکر کیا " بنت حارثہ بن نعمان " جبکہ ابن اسحاق نے " ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان " کہا ۔
خطبہ جمعہ میں قرآن کریم کی آیات ہی سے وعظ کہنا چاہیے۔اور سورہ ق کو موضوع بنانا مسنون وموکد ہے کہ سامعین کو قیامت اور اس کے حساب کتاب کی شدت یاد دلائی جائے۔اور وہ اقوام سابقہ کی تاریخ وانجام سے بھی غافل نہ رہیں۔