فهرس الكتاب

الصفحة 1100 من 5274

کتاب: جمعۃ المبارک کے احکام ومسائل

باب: خطیب کا خطبے میں کمان سے سہارا لینا

1100 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْنٍ، عَنْ بِنْتِ الْحَارِثِ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَت:ْ مَا حَفِظْتُ (قَافْ) إِلَّا مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَخْطُبُ بِهَا كُلَّ جُمُعَةٍ، قَالَتْ: وَكَانَ تَنُّورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَنُّورُنَا وَاحِدًا.

قَالَ أَبو دَاود: قَالَ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ شُعْبَةَ قَالَ بِنْتُ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ و قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ أُمُّ هِشَامٍ بِنْتُ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ.

حارث بن نعمان کی صاحبزادی بیان کرتی ہیں کہ میں نے سورۃ ق رسول اللہ ﷺ کے منہ مبارک سے سن کر ہی یاد کی ہے ۔ آپ ﷺ اسے ہر خطبہ جمعہ میں پڑھا کرتے تھے ۔ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا اور ہمارا تنور ایک ہی تھا ۔ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ روح بن عبادہ نے شعبہ سے روایت کرتے ہوئے اس خاتون کا نسب یوں ذکر کیا " بنت حارثہ بن نعمان " جبکہ ابن اسحاق نے " ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان " کہا ۔

خطبہ جمعہ میں قرآن کریم کی آیات ہی سے وعظ کہنا چاہیے۔اور سورہ ق کو موضوع بنانا مسنون وموکد ہے کہ سامعین کو قیامت اور اس کے حساب کتاب کی شدت یاد دلائی جائے۔اور وہ اقوام سابقہ کی تاریخ وانجام سے بھی غافل نہ رہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت