فهرس الكتاب

الصفحة 1101 من 5274

کتاب: جمعۃ المبارک کے احکام ومسائل

باب: خطیب کا خطبے میں کمان سے سہارا لینا

1101 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سِمَاكٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْدًا، وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا، يَقْرَأُ آيَاتٍ مِنَ الْقُرْآنِ، وَيُذَكِّرُ النَّاسَ.

سیدنا جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی نماز اور آپ ﷺ کا خطبہ درمیانہ درمیانہ ہوتے تھے ۔ آپ ﷺ قرآن کریم کی چند آیات تلاوت فرماتے اور لوگوں کو وعظ و نصیحت فرمایا کرتے تھے ۔

1۔خطبہ جمعہ کو بہت زیادہ طویل کردینا اور اس کے بالمقابل نماز کو مختصر رکھناخلاف سنت ہے۔2۔اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہواکہ خطبہ جمعہ صرف عربی زبان میں دینا ضروری نہیں بلکہ اس سے اصل مقصد تو یہ ہے کہ لوگوں کی اصلاح ہو اس لئے خطبہ اس زبان میں ہونا چاہیے جو لوگوں کی سمجھ میں آسکے۔اور وہ خطبہ سن کر اس سے نصیحت حاصل کرسکیں۔اور ان کی زندگی میں انقلاب آئے۔3۔اگر یہ پابندی لگا دی جائے۔کہ خطبہ جمعہ صرف عربی زبان میں ہو اور بس تو عربی نہ جاننے والوں کی سمجھ میں اس سے کیا آئے گا۔؟اور کیسے ان کی اصلاح ہوگی ؟اس طرح تو وعظ ونصیحت کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت