فهرس الكتاب

الصفحة 122 من 5274

کتاب: طہارت کے مسائل

باب: نبی ﷺ کے وضو کا بیان

122 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ وَيَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْطَاكِيُّ لَفْظُهُ قَالَا حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ حَرِيزِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَلَمَّا بَلَغَ مَسْحَ رَأْسِهِ وَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى مُقَدَّمِ رَأْسِهِ فَأَمَرَّهُمَا حَتَّى بَلَغَ الْقَفَا ثُمَّ رَدَّهُمَا إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ قَالَ مَحْمُودٌ قَالَ أَخْبَرَنِي حَرِيزٌ

سیدنا مقدام بن معدیکرب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ، آپ ﷺ نے وضو کیا ، جب سر کے مسح تک پہنچے تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں سر کے اگلے حصے پر رکھیں اور انہیں سر پر پھیرا حتیٰ کہ گدی تک لے گئے ۔ پھر اپنے ہاتھوں کو اسی جگہ واپس لے آئے ، جہاں سے شروع کیا تھا ۔ محمود کی روایت میں «أخبرني حريز» کی تصریح ہے ۔

فائدہ: گردن کا مسح علیحدہ سے ثابت نہیں ہے بلکہ سر کا مسح کرتے ہوئے ہاتھوں کو گدی تک لے جانا ہی ثابت ہے اور یہی عمل مسنون اور ماجورہے ۔ ہاتھوں کو ایک بار پیچھے لے جانا اور پھر واپس شروع کی جگہ پر لے آنا سب ایک ہی مسح ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت