فهرس الكتاب

الصفحة 1290 من 5274

کتاب: نوافل اور سنتوں کے احکام ومسائل

باب: نماز چاشت کے احکام و مسائل

1290 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَيَّاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْح:ِ >صَلَّى سُبْحَةَ الضُّحَى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، يُسَلِّمُ مِنْ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ. قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمَ الْفَتْحِ سُبْحَةَ الضُّحَى، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، قَالَ ابْنُ السَّرْحِ إِنَّ أُمَّ هَانِئٍ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ سُبْحَةَ الضُّحَى.. بِمَعْنَاهُ.

سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب ؓا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے روز چاشت کی آٹھ رکعات پڑھی تھیں ۔ آپ ﷺ ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے تھے ۔ احمد بن صالح نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن چاشت کی نماز پڑھی اور اسی کے مثل ذکر کیا ۔ ابن سرح نے کہا: ام ہانی ؓا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ میرے ہاں تشریف لائے ، اور نماز چاشت کا نام نہیں لیا ۔ ( بلکہ ویسے ہی کہا کہ آپ نے آٹھ رکعات پڑھیں ) سابقہ حدیث کے معنی میں ۔

فائدہ:شیخ البانی ﷫نے اس کی تضعیف کی ہے ۔مطلب یہ ہے کہ روایت تو صحیح ہے کیونکہ بخاری و مسلم میں یہ روایت موجود ہے ۔لیکن ان میں ''ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے تھے ۔''کے الفاظ نہیں ہیں ۔یہ الفاظ منکر ہیں اور اس کی وجہ سے روایت ضعیف ہے ' ورنہ اصل واقعہ صحیح ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت