1291 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: مَا أَخْبَرَنَا أَحَدٌ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الضُّحَى، غَيْرُ أُمِّ هَانِئٍ، فَإِنَّهَا ذَكَرَتْ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ اغْتَسَلَ فِي بَيْتِهَا، وَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، فَلَمْ يَرَهُ أَحَدٌ صَلَّاهُنَّ بَعْدُ.
جناب ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ ہمیں ام ہانی ؓا کے علاوہ کسی نے خبر نہیں دی کہ اس نے دیکھا ہو کہ نبی کریم ﷺ نے نماز چاشت پڑھی ، ام ہانی ؓا کا بیان ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فتح مکہ کے روز اس کے گھر میں غسل کیا اور آٹھ رکعتیں پڑھیں ( اس کے سوا ) اور کسی نے نہیں دیکھا کہ اس کے بعد آپ ﷺ نے یہ رکعات پڑھی ہوں ۔
فوائد و مسائل: (1) نبی کرم ﷺ نےنماز چاشت پابندی سے نہیں پڑھی ہے ۔اور آپ کی اس نمازکو ''صلوٰۃفتح ''کا نام دیاگیا ہے ۔
(2) سفر میں بھی نوافل پڑھنے چاہییں 'مگر سنن راتبہ (مؤکدہ ) ثابت نہیں ہیں ۔