1292 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ فَقَالَتْ: لَا,إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ! قُلْتُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرِنُ بَيْنَ السُّورَتَيْنِ؟ قَالَتْ: مِنَ الْمُفَصَّلِ.
جناب عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ ؓا سے پوچھا ، کیا رسول اللہ ﷺ چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے ؟ کہا نہیں ، الا یہ کہ سفر سے تشریف لاتے ۔ میں نے پوچھا ، کیا رسول اللہ ﷺ سورتیں ملا کر پڑھ لیا کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا: ہاں ۔ مفصل میں سے ( یعنی آخری منزل کی سورتوں میں سے ) ۔
فائدہ: صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ سفر سے واپسی پر پہلے مسجد میں تشریف لاتے 'دو رکعتیں پڑھتے ' احباب سے ملاقات ہوتی پھر گھر تشریف لے جاتے ۔ (صحیح بخاری ' المغازی 'حدیث:4418)