فهرس الكتاب

الصفحة 1293 من 5274

کتاب: نوافل اور سنتوں کے احکام ومسائل

باب: نماز چاشت کے احکام و مسائل

1293 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: مَا سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ، وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدَعُ الْعَمَلَ، وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ,خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ، فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا زوجہ نبی کریم ﷺ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ضحیٰ کے نفل کبھی نہیں پڑھے ، میں البتہ پڑھتی ہوں ۔ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ کچھ عمل کرنا چاہتے مگر چھوڑ دیتے تھے ، کہ لوگ عمل کریں گے تو کہیں ان پر فرض نہ کر دیا جائے ۔

فائدہ:حضرت عائشہ ؓ کے بیان کا مفہوم یہ ہے کہ نبی ﷺ نے یہ نوافل پابندی سےنہیں پڑھے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت