فهرس الكتاب

الصفحة 1294 من 5274

کتاب: نوافل اور سنتوں کے احکام ومسائل

باب: نماز چاشت کے احکام و مسائل

1294 حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ,كَثِيرًا، فَكَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ الْغَدَاةَ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتْ قَامَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

جناب سماک کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر بن سمرہ ؓ سے پوچھا کہ کیا آپ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا: ہاں بہت زیادہ ۔ آپ ﷺ جہاں فجر کی نماز ادا فرماتے وہاں سے اس وقت تک نہ اٹھتے جب تک کہ سورج طلوع نہ ہو جاتا ۔ جب ( سورج ) طلوع ہو جاتا تو پھر آپ ﷺ کھڑے ہو جاتے ۔

فائدہ: یہ حدیث صحیح مسلم میں بھی ہے اور امام نووی نے اس پر یہ باب درج فرمایا ہے (باب فضل الجلوس فی مصلاہ بعد الصبح ' وفضل المساجد 'صحیح مسلم ' المساجد 'حدیث:670 ) مگر اس میں نبیﷺ کا نماز اشراق یاچاشت پڑھنے کا بیان نہیں ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت