1318 حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا أَلْفَاهُ السَّحَرُ عِنْدِي إِلَّا نَائِمًا -تَعْنِي: النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب بھی میرے ہاں ہوتے تو سحری کے وقت سوئے ہوئے ہوتے تھے ۔
توضیح: نبیﷺ کا یہ سونا قیام اللیل کےبعد راحت کے لیے ہوتا تھا۔ بعض اوقات محض لیٹنا ہوتا اور بعض اوقات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے گفتگو فرماتے۔ اور ممکن ہے کہ یہ لمبی راتوں کی بات ہو نہ کہ چھوٹی راتوں کی ۔ علامہ قسطلانی فرماتے ہیں کہ قیام اللیل کےبعد آرام کرنا، بدن کو راحت دیتا اور جاگنے کی مشقت دورکرتا ہے علاوہ ازیں جس کو نحیف بھی نہیں ہونے دیتا۔ بخلاف صبح تک جاگتے رہنے کے، اس سے کمزوری ہو جاتی ہے۔ (عون المعبود)