فهرس الكتاب

الصفحة 1348 من 5274

کتاب: نوافل اور سنتوں کے احکام ومسائل

باب: رات کی نماز( تہجد )کا بیان

1348 حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ، عَنْ بَهْزٍ، حَدَّثَنَا زُرَارَةُ بْنُ أَوْفَى، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْعِشَاءَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى أَهْلِهِ، فَيُصَلِّي أَرْبَعًا ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ... ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ: يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَاءَةِ وَالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي التَّسْلِيمِ: حَتَّى يُوقِظَنَا.

بہز نے زرارہ بن اوفی سے روایت کیا وہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھا کر گھر تشریف لاتے اور چار رکعتیں پڑھتے پھر اپنے بستر پر آ جاتے ، اور حدیث تفصیل کے ساتھ بیان کی مگر اس میں یہ ذکر نہیں کیا کہ آپ ﷺ ( تہجد کی رکعات میں ) قرآت ، رکوع اور سجود برابر رکھتے اور نہ سلام ہی کے بارے میں یہ کہا کہ آپ ﷺ اس سے ہمیں جگا دیتے ۔

فائدہ: اس میں بھی چار رکعات کی بجائے ، محفوظ الفاظ دو رکعت ہی ہیں، جیسا کہ پہلے گزرا۔ (شیخ البانی)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت