فهرس الكتاب

الصفحة 1361 من 5274

کتاب: نوافل اور سنتوں کے احکام ومسائل

باب: رات کی نماز( تہجد )کا بیان

1361 - حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ وَجَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْمُقْرِئَ أَخْبَرَهُمَا، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ صَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ قَائِمًا، وَرَكْعَتَيْنِ بَيْنَ الْأَذَانَيْنِ، وَلَمْ يَكُنْ يَدَعُهُمَا. قَالَ جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ فِي حَدِيثِهِ وَرَكْعَتَيْنِ جَالِسًا بَيْنَ الْأَذَانَيْنِ. زَادَ: جَالِسًا.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز پڑھی ، پھر کھڑے ہو کر آٹھ رکعتیں پڑھیں ۔ اور دونوں اذانوں ( فجر کی اذان اور اقامت ) کے درمیان دو رکعتیں پڑھیں اور آپ ﷺ انہیں ترک نہ کیا کرتے تھے ۔ جعفر بن مسافر کی روایت ہے کہ دو اذانوں کے مابین دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے ۔ یہ اضافہ ( بیٹھ کر ) جعفر بن مسافر کا ہے ۔

فائدہ: اس روایت میں شیخ البانی﷫ کے نزدیک (بین الاذانین) ''دونوں اذانوں کے درمیان'' کے الفاظ ثابت نہیں۔ بلکہ اصل الفاظ ( جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے) (بعد الوتر) ہیں۔ یعنی وتروں کے بعد نبیﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت