فهرس الكتاب

الصفحة 1362 من 5274

کتاب: نوافل اور سنتوں کے احکام ومسائل

باب: رات کی نماز( تہجد )کا بیان

1362 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ: قُلْتُ: لِعَائِشَةَ رَضِي اللَّهُ عَنْهَا: بِكَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ؟ قَالَتْ: كَانَ يُوتِرُ بِأَرْبَعٍ وَثَلَاثٍ وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ وَثَمَانٍ وَثَلَاثٍ وَعَشْرٍ وَثَلَاثٍ، وَلَمْ يَكُنْ يُوتِرُ بِأَنْقَصَ مِنْ سَبْعٍ، وَلَا بِأَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ.

قَالَ أَبو دَاود: زَادَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ وَلَمْ يَكُنْ يُوتِرُ بِرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، قُلْتُ: مَا يُوتِرُ؟ قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ يَدَعُ ذَلِكَ. وَلَمْ يَذْكُرْ أَحْمَدُ وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ.

عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ ؓا سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کتنی رکعات وتر پڑھا کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ ( کبھی ) چار اور تین ، ( کبھی ) آٹھ اور تین اور ( کبھی ) دس اور تین رکعات پڑھا کرتے تھے ۔ آپ ﷺ کے وتر سات سے کم اور تیرہ رکعت سے زیادہ نہ ہوتے تھے ۔ ¤ امام ابوداؤد ؓ نے کہا: احمد بن صالح نے مزید روایت کیا کہ آپ ﷺ فجر سے پہلے دو رکعتیں " وتر " نہ کرتے تھے ۔ میں نے پوچھا کہ وتر کرنے کا کیا معنی ؟ سیدہ عائشہ ؓا نے کہا کہ آپ ﷺ یہ رکعتیں چھوڑا نہ کرتے تھے ۔ اور احمد نے چھ اور تین رکعات کا ذکر نہیں کیا ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت