فهرس الكتاب

الصفحة 1417 من 5274

کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل

باب: وتر کے استحباب کا بیان

1417 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. بِمَعْنَاهُ، زَادَ: فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا تَقُولُ؟ فَقَالَ: (لَيْسَ لَكَ، وَلَا لِأَصْحَابِكَ) .

سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ نے نبی کریم ﷺ سے اس کے ہم معنی روایت کی ہے اور مزید یہ اضافہ کیا ہے کہ ایک دیہاتی بولا ، آپ کیا کہتے ہیں ؟ ( سیدنا عبداللہ ؓ نے ) کہا: یہ حکم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کے لیے نہیں ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت