باب: وتر کے استحباب کا بیان
1417 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. بِمَعْنَاهُ، زَادَ: فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا تَقُولُ؟ فَقَالَ: (لَيْسَ لَكَ، وَلَا لِأَصْحَابِكَ) .
سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ نے نبی کریم ﷺ سے اس کے ہم معنی روایت کی ہے اور مزید یہ اضافہ کیا ہے کہ ایک دیہاتی بولا ، آپ کیا کہتے ہیں ؟ ( سیدنا عبداللہ ؓ نے ) کہا: یہ حکم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کے لیے نہیں ہے ۔