باب: وتر کے استحباب کا بیان
1418 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَاشِدٍ الزَّوْفِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُرَّةَ الزَّوْفِيِّ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ الْعَدَوِيُّ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَمَدَّكُمْ بِصَلَاةٍ وَهِيَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ وَهِيَ الْوِتْرُ فَجَعَلَهَا لَكُمْ فِيمَا بَيْنَ الْعِشَاءِ إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ
خارجہ بن حذافہ عدوی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: " بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ایک ( مزید اضافی ) نماز سے تمہاری مدد فرمائی ہے اور یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بھی بڑھ کر ہے ۔ یہ نماز وتر ہے اور اس کا وقت عشاء سے طلوع فجر کے درمیان مقرر فرمایا ہے ۔ "
اس حدیث میں شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک صرف یہ الفاظ (وهي خير لكم من حمر النعم) '' اور یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بھی بڑھ کر ہے '' ضعیف ہیں ۔