فهرس الكتاب

الصفحة 1488 من 5274

کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل

باب:( آداب )دعا

1488 حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ حَدَّثَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ مَيْمُونٍ صَاحِبَ الْأَنْمَاطِ حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَيِيٌّ كَرِيمٌ يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا

سیدنا سلمان فارسی ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " بلاشبہ تمہارا رب بہت حیا والا اور سخی ہے ۔ بندہ جب اس کی طرف اپنے ہاتھ اٹھاتا ہے تو اسے حیا آتی ہے کہ انہیں خالی لوٹا دے ۔ "

اللہ عزوجل کا حیا کرنا اس کی خاص صفت ہے۔اور اسی طرح ہے جس طرح اس کی ذات کولائق ہے۔اہل السنۃ کا اللہ تعالیٰ کی تمام صفات پرایمان ہے۔ان کی تفصیل وکنہ میں جانا اور پڑنا درست نہیں ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت