1489 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَال:َ >الْمَسْأَلَةُ أَنْ تَرْفَعَ يَدَيْكَ حَذْوَ مَنْكِبَيْكَ، أَوْ نَحْوَهُمَا، وَالِاسْتِغْفَارُ أَنْ تُشِيرَ بِأُصْبُعٍ وَاحِدَةٍ، وَالِابْتِهَالُ أَنْ تَمُدَّ يَدَيْكَ جَمِيعًا.
سیدنا ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ سوال ( یعنی دعا کا ادب ) یہ ہے کہ تم اپنے ہاتھ اپنے کندھوں کے برابر یا اس کے قریب بلند کرو ۔ اور استغفار یہ ہے کہ اپنی ایک انگلی سے اشارہ کرو اور ابتہال ( عجز و انکساری ) یوں ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو لمبا کرو ۔