فهرس الكتاب

الصفحة 1550 من 5274

کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل

باب: تعوذات کا بیان

1550 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ قَالَتْ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ

فروہ بن نوفل اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ ؓا ام المؤمنین سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کیا دعا مانگا کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من شر عملت ، ومن شر لم أعمل» " اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ان اعمال کے شر سے جو میں نے کیے ہیں اور ان اعمال کے شر سے بھی جو میں نے نہیں کیے ۔ "

یعنی اے اللہ ! مجھے برے اعمال سے بچنے کی توفیق دے اور جو کر چکا ہوں ان کی نحوست اور عذاب سے محفوظ رکھ اور آیندہ کے لیے بھی محفوظ رکھ ۔ ایسا نہ ہو کہ غلط کیش بنا رہوں اور اسی پر خوش رہوں ۔بعض اوقات کچھ لوگ اپنی غلطیوں پر بڑے نازاں ہوتے ہیں ۔ چاہیے کہ انسان اس پر نادم ہو اور توبہ کرے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت