فهرس الكتاب

الصفحة 1681 من 5274

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل

باب: پانی پلانے کی فضیلت

1681 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمَّ سَعْدٍ مَاتَتْ فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ الْمَاءُ قَالَ فَحَفَرَ بِئْرًا وَقَالَ هَذِهِ لِأُمِّ سَعْدٍ

سیدنا سعد بن عبادہ ؓ سے منقول ہے انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ( میری والدہ ) ام سعد فوت ہو گئی ہیں تو کون سا صدقہ افضل ہے ؟ ( جو میں ان کی طرف سے کروں ) آپ ﷺ نے فرمایا " پانی " چنانچہ انہوں نے ایک کنواں کھدوایا اور کہا کہ یہ ( میری والدہ ) ام سعد کی طرف سے ہے ۔

مرنے والے کی طرف سے مذکورہ بالا انداز میں مالی صدقہ ایصال ثواب کی شاندار مشروع مثال ہے۔خود ساختہ رسموں ریتوں اور بدعات نے صاف ستھرے پاکیزہ دین کو دھند لاکر کے رکھدیا ہے۔ یہ احادیث پانی کے صدقے کی فضیلت بھی واضح کرتی ہیں۔کہ انسانوں جانوروں مسافروں اور نمازیوں وغیرہ کےلئے ضرورت کی جگہ پر اس کا اہتمام بڑے اجر کا کام ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت