فهرس الكتاب

الصفحة 1699 من 5274

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل

باب: حرص و بخل کی مذمت

1699 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي شَيْءٌ إِلَّا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ بَيْتَهُ أَفَأُعْطِي مِنْهُ قَالَ أَعْطِي وَلَا تُوكِي فَيُوكَى عَلَيْكِ

سیدہ اسماء بنت ابی بکر ؓا بیان کرتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میرے پاس بس وہی ہوتا ہے جو ( میرے شوہر ) زبیر گھر میں لے آئیں ۔ تو کیا میں اس سے دے دیا کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ( اسماء ! ) دو اور باندھ باندھ کر مت رکھو ، ورنہ تم پر بھی ( تمہارا رزق ) باندھ دیا جائے گا ۔ "

یعنی گھر میں سے عام معمولات کے مطابق جیس کے خواتین گھر کی امین ہوتی اور اس کا انتظام چلاتی ہیں۔جو تھوڑا بہت میسر ہو صدقہ کردیا کرو۔۔۔اس کی بہت برکات ہیں۔جبکہ بخیلی ایک نحوست ہے۔ باندھ باندھ کر مت رکھو کا مطلب یہی ہے کہ بخل سے کام مت لو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت